Jump to content


Photo

دینی شوہر


  • Please log in to reply
No replies to this topic

#1 ÅwèXømê Afrídì Smîlé

ÅwèXømê Afrídì Smîlé

    Advanced Member

  • Senior Member
  • 2,630 posts
  • LocationPeshawar

Posted 26 July 2017 - 10:25 AM

"مریم، میں واقعی کسی دینی شخص سے ہی نکاح کرنا چاہتی ہوں، پر کیا کروں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔ میرے گھر والے بہت ماڈرن سی زہنیت کے ہیں۔ وہ کبھی میری بات نہیں سنیں گے۔ مما اور ڈیڈ چاہتے ہیں کوئی کلیِن شیِو ڈاکٹر، انجینئر یا بِزنِس میِن ہی ہو جسے وہ پورے خاندان میں شو - پیِس کی طرح دِکھا بھی سکیں۔ داڑھی والے تو انھیں زہر لگتے ہیں۔ اور اگر میں نے ان سے یہ کہہ دیا کہ دوست نے رشتہ بتایا ہے، پھر تو قیامت ہی آ جائے گی۔ وہ کہیں گے ضرور کوئی محبت کی کہانی ہو گی میری۔۔"، اسماء بھرائی ہوئی آواز سے دل کا درد سنا رہی تھی۔
مریم کا دل پسیِج گیا۔ اسماء کا ہاتھ نرمی سے دبایا، "دیکھو اسماء، اللہ کہتے ہیں کہ *جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے* (سورہ البقرۃ، آیت 150)
اب دیکھو کہ تم نے منزل بہت اونچی چُن لی ہے، اور راستے آسان چاہتی ہو۔ ایسا بالکل نہیں ہو سکتا۔ جتنا بڑا مقصد، اُتنے ہی کٹھن راستے، اور اتنی ہی بڑی قربانیاں بھی۔ یہ تو لازم و ملزوم ہے۔ اللہ کے دین کے رستے پر آنا ہے تو پھولوں کے ساتھ زخمی کر دینے والے نوکیلے کانٹوں کو بھی قبول کرنا ہو گا۔ یہ فُل پیکِج ایز-اِٹ-اِز لینا پڑے گا تو ہی بات بنے گی۔ اب یہ تو نہیں کہ اللہ نے اپنے انبیاء تک کو آزمایا اور تمہیں اور مجھے چھوڑ دیں؟ ایسے ہی فرِی میں اتنی حسیِں جنت دے دیں، جبکہ اس فانی دنیا تک کے فائو سٹار ہوٹل میں اینٹری کے لیے کچھ اصول ہیں۔
تم کہتی ہو تمہیں اپنوں کی نفرت جھیلنا پڑے گی، صرف اس لیے کہ تم ایسے شخص کا انتخاب کرنا چاہتی ہو جو پانچ وقت کا نمازی ہو، تمہیں پردہ کرنے دے، تمہارے دین میں رکاوٹ نہ بنے۔ اور شاید اس وجہ سے اپنے قریبی رشتے تمہیں دل سے اتار دیں۔۔ اور یہ سب دیکھنے کی تم میں ابھی ہمت نہیں، ہے ناں؟؟"
اسماء ندامت سے سر جھکائے رہی۔ ہمت ہی نہ پڑی جواب دینے کی۔
مریم نے اسکی خاموشی پر بات پھر سے شروع کی، " حضرت ابراھیم علیہ سلام۔۔
اللہ کی خاطر آگ میں برضا و رغبت گر جانا کیا کافی نہیں تھا اپنی وفا کا ثبوت رقم کرنے کے لیے؟
پر اللہ نے ان سے ٹیسٹ پہ ٹیسٹ لیے۔۔ کبھی اپنا آبائی علاقہ چھوڑا جا رہا ہے، کبھی اپنی بیوی اور چھوٹے سے بچے کو ، اپنے دل کے ٹکڑے کو صحرا میں اکیلا، بظاہر بےسہارا چھوڑ کر چل دیے ہیں، کبھی سالوں بعد اپنا جگر پارہ ملنے پر اللہ کے حکم پر اس پر چھُری چلانے کو ہیں۔۔
کیا کیا نہیں کر دیا انھوں نے۔ کتنی قربانیاں دیں اپنے دل کی۔۔
پتا ہے جب حضرت ابراھیم علیہ سلام حضرت ہاجرہ کو چھوڑ کر جا رہے تھے تو واپسی پر رستے میں کیا کیا تھا؟؟"
"دعا کی تھی۔۔؟"، اسماء نے دھیمی سے آواز میں جواب دیا۔
"نہیں، اس سے پہلے۔۔"،مریم نے سر ہلایا
"۔۔پتا نہیں"، اسماء جیسے سوچ سوچ کر اب ہار مان رہی تھی۔
"۔۔انھوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا تھا اسماء !!
بھلا کیوں۔۔؟
کیونکہ وہ بھی انسان تھے۔ ایک نرم سا دل انکے پاس بھی تھا۔ انھوں نے مُڑ کر نہیں دیکھا کہ کہیں کمزور نہ پڑ چائیں۔
اور ہم سارے اچھے اعمال یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ جی وہ لوگ تو انبیاء تھے۔۔
اسماء، وہ بھی انسان تھے، خدا نہیں تھے۔درد انکو بھی ہوتا تھا۔ پر وہ اللہ سے محبت ہر چیز سے بڑھ کر کرتے تھے۔
یاد رکھو، اطاعت کا تو مزہ ہی تب ہے جب دل زخمی ہو، آنکھیں اشک بار ہوں، اور تم جھکے سر سے کہتے جاؤ *اے اللہ، بس تیرے لیے*
تم نے بھی پھر اگر اللہ کی خاطر اس دین کی راہ پر چلنے کے لیے اپنی قیمتی چیزیں (خواہش، جزبے، قریبی رشتے۔۔) قربان کر ہی دے ہیں، تو پھر اب دل پر پتھر نہیں, پہاڑ رکھ لو. اور یہ بار بار پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھنا بند کرو.. جب قربانی دے ڈالی ہے تو اب ادائے ابراھیمی بھی سیکھو, تم کیا سمجھتی تھی سرِتسلیم خم کرنا اتنا آسان ہے؟ ایسے ہی تو رب نے نہیں کہہ دیا تھا کہ ابراھیمؑ نے وفا کا حق ادا کر دیا..
جب اللہ لے لیے قربانی دینی ہے تو پھر ایسے دو کہ زمین و آسمان بھی رو پڑیں۔
اور حضرت ابراھیم علیہ سلام کی وفا بھی دیکھو رائیگاں تو نہیں گئی۔ اللہ نے بھی کہہ دیا کہ *..جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزما یا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا: "میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں"۔۔* (سورہ البقرۃ، آیت 124)
پیشوا یعنی امام، لیِڈر۔۔
اور کیا کیا دیا انکو؟ انکے بعد تمام انبیاء انکی نسل سے لائے۔ امتِ محمدی۔۔ اس قدر بعد میں آنے والی امت اپنی نماز میں ان پر سلام بھیجتی ہے۔
اور یہ تو ابھی دنیا کی عزت ہے۔ آخرت میں جو ملے گا اسکا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
باقی جو تم کہتی ہو کہ گھر والے الزام لگائیں گے ، لعن طعن کریں گے۔ تو یہ تو طے ہے کہ ایسا ہو گا اور یہ سب اس راہ پر فیس کرنا ہی پڑے گا۔ مگر یہ بھی یاد رکھو، اگر اس سب سے ڈر کر دین کی راہ چھوڑ دی تو نقصان اللہ کا نہیں، نہ ہی اس دین کا۔ اللہ تو یہ کہتے ہیں ہیں کہ:
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے"
(سورہ المائِدۃ، آیت 54)
مریم نے دیکھا کے اسماء کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
~ از ڈاکٹر بنتِ اسلام ( مصنفہ ' غرباء ' ناول )
مختصر تحریریں

Btaun tmhe ek nishani UDAAS l0g0n ki
Kbi ghaur krna ye HANSTEY bht hain

1477874_565627646858845_1818080306_n.jpg





0 user(s) are reading this topic

0 members, 0 guests, 0 anonymous users