Jump to content


Photo

Bahadur Shah Zafar


  • Please log in to reply
No replies to this topic

#1 mahfuzurrehman

mahfuzurrehman

    Active Member

  • Junior Member
  • 562 posts

Posted 10 November 2017 - 10:33 PM

ایک صدی سے زیادہ عرصے تک ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی قبر کا نام و نشان نہیں ملتا تھا، لیکن اب اس کی حادثاتی دریافت نے اس صوفی بزرگ، عمدہ اردو شاعر اور تاریخ کے بدنصیب بادشاہوں میں سے ایک کی یاد دوبارہ تازہ کر دی ہے۔

جب سات نومبر 1862 کو بہادر شاہ ظفر نے میانمار کے شہر رنگون (حالیہ نام ینگون) کے ایک خستہ حال چوبی مکان میں آخری سانس لی تو ان کے خاندان کے گنے چنے افراد ہی ان کے سرہانے موجود تھے۔

انڈین ریاست میں مغل تاریخ خارج

مغل فن مصوری: چاول پر چوگان کا میدان

اسی دن برطانوی افسران نے انھیں رنگون کے مشہور شویداگون پیگوڈا کے قریب ایک بےنشان قبر میں دفن کر دیا۔

یہ ایک ایسے شہنشاہ کا تلخ، حوصلہ شکن اور خجالت آمیز انجام تھا جس کے پرکھوں نے آج کے انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وسیع علاقوں پر صدیوں تک شان و شوکت سے راج کیا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے پاس وہ سلطنت نہیں رہی تھی جو ان کے آبا اکبرِ اعظم یا اورنگ زیب عالمگیر کے پاس تھی، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ 1857 کی جنگِ آزادی میں ان کی پکار پر ہندوستان کے طول و عرض سے لوگ انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

_98670912_5fe9ef88-7ae7-4b40-a168-f57523تصویر کے کاپی رائٹALAMYImage captionجنگِ آزادی کے بعد بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کا منظر

اس جنگ میں شکست کے بعد مغل شہنشاہ پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا، اور انھیں قید کر کے برما جلاوطن کر دیا گیا۔

وہ سات نومبر 1882 کو 87 برس کی عمر میں چل بسے، اور ان کی موت کے ساتھ ہی دنیا کے عظیم شاہی خاندانوں میں سے ایک کا اختتام ہو گیا۔ لیکن ان کا نام اور ان کی تحریر کردہ اردو شاعری زندہ رہی۔

1837 میں جب ظفر نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت عظیم مغلیہ سلطنت سکڑ کر دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ اپنی رعایا کے لیے شہنشاہ ہی رہے۔

انگریزوں نے پیروکاروں کے اٹھ کھڑے ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ان کی قبر کو بےنشان رکھا تھا۔ حتیٰ کہ ان کے مرنے کی خبر کو بھی ہندوستان پہنچتے پہنچتے دو ہفتے لگ گئے۔

_98670913_d1b0bed3-645b-493c-844f-652c31تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage caption1857 کی جنگِ آزادی کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی

اس کے بعد ایک سو برس تک ان کی قبر کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ لوگ ان کا نام بھی بھولنے لگے، لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کا دوبارہ ذکر ہونے لگا۔ دہلی اور کراچی میں ان کے نام پر سڑکوں کے نام رکھے گئے اور ڈھاکہ میں ایک پارک ان سے موسوم کیا گیا۔

'دا لاسٹ مغل' نامی کتاب کے مصنف اور مشہور تاریخ دان ولیم ڈیلرمپل نے بی بی سی کو بتایا: 'وہ خطاط، نامور شاعر اور صوفی پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسے شخص تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد میں یقین رکھتا تھا۔

'وہ کوئی ہیرو یا انقلابی رہنما نہیں تھے، لیکن وہ اپنے جدِ امجد اکبرِ اعظم کی طرح مسلم ہندوستانی تہذیب کی برداشت اور کثیر القومیت کی علامت ہیں۔'

ہندوستان کے دو بڑے مذاہب کے اتحاد کی طرف ظفر کے جھکاؤ کی ایک وجہ خود ان کا خاندان تھا۔ ان کے والد اکبر شاہ ثانی مسلمان جب کہ والدہ لال بائی ہندو راجپوت شہزادی تھیں۔

_98670914_bf272541-63c3-4883-89b0-116446Image captionبہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ان کے بعض آبا کی طرح شاندار نہیں ہے

رنگون کے ایک پرسکون علاقے میں واقع بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ہندوستانی تاریخ کے ایک جذباتی اور متلاطم دور کی یاد دلاتا ہے۔

رنگون کے باسیوں کو یہ تو معلوم تھا کہ آخری مغل شہنشاہ ان کے شہر میں واقع چھاؤنی کے اندر کہیں نہ کہیں دفن ہیں، لیکن درست جگہ کا کسی کا علم نہیں تھا۔

آخر 1991 میں مزدوروں کو ایک نالی کھودتے کھودتے اینٹوں کا چبوترہ ملا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دراصل بہادر شاہ ظفر کی قبر ہے۔ بعد میں عطیات کی مدد سے یہاں مقبرہ تعمیر کیا گیا۔

ہندوستان میں قائم دوسرے مغل بادشاہوں کے عالی شان مقبروں کی نسبت یہ مقبرہ بہت معمولی ہے۔ ایک آہنی محراب پر ان کا نام اور خطاب رقم ہے۔ نچلی منزل پر ان کی ملکہ زینت محل اور پوتی رونق زمانی کی قبر ہے۔

_98670915_7bbaf722-1f53-48d6-ae9f-3d397aImage captionبہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں میں ڈھکی ہوئی ہے

بہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر ایک لمبا فانوس لٹکا ہے، اور دیواروں پر تصاویر آویزاں ہیں۔ ساتھ ہی ایک مسجد ہے۔

یہ مقبرہ درگاہ کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور یہاں رنگون کے مسلمان حاضری دیتے ہیں۔

الحاج یو عین لوِن بہادر شاہ کے مقبرے کی انتظامی کمیٹی کے خزانچی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'یہاں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں کیوں کہ لوگ انھیں صوفی بزرگ مانتے ہیں۔ لوگ یہاں مراقبہ کرنے اور ان کی قبر کے قریب نماز پڑھنے آتے ہیں۔ جب لوگوں کی خواہشات پوری ہوتی ہیں تو وہ یہاں چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔'

_98670916_769359ec-707c-4c96-bf67-e06c09تصویر کے کاپی رائٹPICTURE COURTESY - THE BRITISH LIBRARY

اس وقت بہادر شاہ ظفر کا سب سے بڑا ورثہ ان کی اردو شاعری ہے۔ محبت اور زندگی کے بارے میں ان کی غزلیں برصغیر بھر کے ساتھ ساتھ برما میں بھی گائی اور سنی جاتی ہیں۔

انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو کاغذ قلم کے استعمال سے روک دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ آخری دور میں وہ دیواروں پر کوئلے سے اشعار لکھا کرتے تھے۔ ان سے منسوب بعض غزلیں اس مقبرے کی دیواروں پر بھی رقم ہیں۔

بطور بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پاس اپنا کوئی لشکر نہیں تھا، لیکن وہ جنگِ آزادی کے دوران علامتی رہنما کے روپ میں سامنے آئے جن کے پیچھے ہندو اور مسلمان دونوں کھڑے ہو گئے۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ اس دوران ہزاروں مسلمان اور ہندو سپاہیوں نے ان کی شہنشاہی بحال کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

2017 میں 1857 کی جنگِ آزادی کے 160 برس مکمل ہو گئے، لیکن اس کی یاد منانے کے لیے کہیں کوئی تقریبات منعقد نہیں ہوئیں۔

آج کے دور میں جب قوم پرستی اور بنیاد پرستی زور پکڑ رہی ہیں، تاریخ دانوں کے مطابق بہادر شاہ ظفر کی مذہبی رواداری آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی ان کے دور میں تھی۔

بطور شہنشاہ ان سے تاج و تخت اور سلطنت چھن گئی، لیکن بطور شاعر اور بزرگ وہ آج بھی ان گنت لوگوں کے دلوں پر حکومت کر رہے ہیں۔

متعلق

 






0 user(s) are reading this topic

0 members, 0 guests, 0 anonymous users