..✿... A a j - K i - B a a t ...✿..
شرافت سے جھکا ہوا سر ندامت سے جھکے سر سے بہتر ہے
A head bowed with nobility is better than a head bowed by regret.
Posted by
Seems Aftab
on 30 May 2012 - 02:01 PM
..✿... A a j - K i - B a a t ...✿..
شرافت سے جھکا ہوا سر ندامت سے جھکے سر سے بہتر ہے
A head bowed with nobility is better than a head bowed by regret.
Posted by
Abdullah
on 17 May 2012 - 01:09 PM

Posted by
Humaira Noor
on 28 November 2013 - 11:27 AM
Assalam o Alaikum
Hope all are gud & enjoying
Yaad to akser aati hay mujay bhi but aaj miss ziada kia to main apnay gher (Hulchul) again aa gai ![]()
Ho raat akeli pichlay peher
Aur chand angan main aa jaye
Tum chand ki tarhan tanha ho
Yeh baat tumhain tarpa jaye
Kuch khawb saja ker palkon pay
Tum chand say batain ker laina
Hum yaad tumhain to kartay hain
Tum yaad hamain bhi ker laina
Kuch baat na ho jub aisay hi
Num aankh tumhari ho jaye
Tum baat kahin per kartay ho
Dil aur kahin per kho jaye
Jazbat k aisay alam main
Muskan labon per bhar lena
Hum yaad tumhain to kartay hain
Tum yaad hamain bhi ker laina
![]()
Posted by
Aasim
on 21 May 2012 - 01:19 AM

Posted by
Humaira Noor
on 28 June 2012 - 02:44 PM
Posted by
possible
on 24 August 2012 - 07:09 PM
Hum Khuwabon K Beopari Thay
Par Is Main Hua Nuqsan Bara
Kuch Bakht Main Dhai'roon Kalak Thi
Kuch Ab K Ghazab Ka Kaal Para
Hum Raakh Leyeh Hain Jholi Men
Or Sar Pay Hay Sahoo'kaar Khara
Yahan Boond Nahi Hay Dee'way Main
Who Bhajh Bai'Yajh Ke Baat Karay
Hum Baanjh zZmeen Ko Taktay Hain
Who Dhor Anaj Ki Baat Karay
Hum Kuch Din Ke Mohlat Mangain
Who Aaj He Aaj Ke Baat Karay
Jab Dharti Sehra Sehra Thi
Hum Darya Darya Royee Thay
Jab Haath Ki Rai'khaen Chup Thi
Or Sur Sangeet Men Soyee Thay
Tab Hum Ne Jeevan'Ghaati Men
Kuch Khuwab Ano'khay Boyee Thay
Kuch Khuwab Sajal Muskanoo K
Kuch Bol Kibat Deewanoo K
Kuch Lafz Jin'hain Maani Na Milay
Kuch Geet Shakista Janoo K
Kuch Neer Wafa Ki Shamoo K
Kuch Par'Pagal Parwanoo K
Phir Apni Ghayal Aankhon Say
Khush Ho K Lahoo Chir'kaya Tha
Maati Main Mass Ke Khaad Bhari
Or Nas Nas Ko Zakh'maya Tha
Or Bhool Gayee Pichli Rut Main
Kya Khoya Tha Kya Paya Tha
Posted by
saza-e-ishq
on 04 July 2012 - 01:52 PM
Dasht main piyaas bhujatey howey mar jatey hain
Hum parinday kaheen jatey howey mar jatey hain
Hum hain sookhay howey talaab pay baithy howey hans
Jo ta.alluq ko nibhatey howey mar jatey hain
Un kay bhee qatl kaa ilzaam humarey sar hay
Jo humain zehar pilatey howey mar jatey hain
Yeh mohabbat kee kahanee nahee martee laikin
Log kirdaar nibhatey howey mar jatey hain
Hum hain woh tootee howee kashtion waley faraz
Jo kinaron ko milatey howey mar jatey hain
Posted by
saza-e-ishq
on 29 June 2012 - 01:39 PM
..Wahi'n Hota Hoo'n!!
Pyaas Ashko'n Say Bhujaa-ta Hoo'n ...Wahi'n Hota Hoo'n
Main Kahi'n Bhi Nahi Jaata Hoo'n ...Wahi'n Hota Hoo'n
Aarzoo'on Ka Mehal Tum Nay Jahan Khaak Kiya
Main Wahan Khaak Uraata Hoo'n ...Wahi'n Hota Hoo'n
Meray Maabood Mera Waqtay Qaazaaa Aajaae
Yeh Dua Maang-ta Jaata Hoo'n ...Wahi'n Hota Hoo'n
Kesa Mehboob Bhla ?? ...Kaaahay Ka Mehboobay Nazer
Khud Ko Main Khud Say Chupata Hoo'n Wahi'n Hota Hoo'n
Apnay Tukyay Ko Samjh Layta Hoo'n Teraa Paiker
Khud Ko Is Terha'n Sulaata Hoo'n ... Wahi'n Hota Hoo'n
Roothna Tujh Say Tassawur Main Hai Mamool Ki Baat
Phirr.. Tujhay Roz Manaata Hoo'n ... Wahi'n Hota Hoo'n
Dil Ko Behlaata Hoo'n Kuch Is Terha'n Tunhaai Main
Teray.. Ash-aar Sunaata Hoo'n ...Wahi'n Hota Hoo'n
Meray Apne Qalam Say
Posted by
Mehar Naqvi
on 10 June 2012 - 06:40 PM
Suno!
Tum Azm Walay Ho
Bala Ka Zabt Rakhtay Ho
Tumhain Kuch Bhi Nahi Hoga
Magar Dekho
Jisay Tum Chhoray Jatay Ho
Usay Tou Theek Se Shayad
Bichharna Bhi Nahi Aata
Suno!
Tum Azam Walay Ho
Usay Matt Chor Ke jana
Posted by
shahrafiq
on 06 March 2015 - 07:25 PM
huM khak nasEesh'no ko heerat sy Na tak
hum kaRb sy guzray haiN karAamat sy pahlY
Posted by
Seems Aftab
on 19 May 2012 - 02:11 PM
پچھلے دنوں میں اپنے دوست کے ہمراہ جارہا تھا کہ راستے میں ایک گاڑی تیزی سے ہمارے آگے سے گزری۔ اس گاڑی کے عقبی شیشوں پر بہت نمایاں اور واضح انداز میں دو جملے لکھے ہوئے تھے جو کچھ اس طرح تھے۔
I am a Play boy
Girls are my toy
یہ دو سطریں پڑھ کر ہم دونوں دنگ رہ گئے۔ہماری حیرت ان جملوں کے مفہوم سے زیادہ لکھنے والے کے حوصلے پر تھی کہ اس نے اپنی گاڑی پر یہ جملہ ایک چلتے پھرتے اشتہار کی شکل میں لکھ رکھا تھا۔ ہمارے معاشرے میں بدکردار ہونا شائد کوئی بہت بڑی بات نہ ہو مگر اس کا اس طرح علانیہ اظہار کرنے کا رواج ابھی تک نہیں پڑھا۔مگر یہ پڑھ کر لگتا تھا کہ اب اس رواج کے دن بھی گنے جاچکے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں سانحہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اپنی حد کو عبور کرکے دوسروں پر زبردستی دین نافذ کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔وہ دوسرے لوگوں کو بالجبر برائیوں سے روکنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ رویہ نہ دین کا مطالبہ ہے اور نہ معاشرہ اسے قبول کرسکتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اجتماعی خیر و شر سے بے نیاز ہوکر صرف اپنے کام سے کام رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دینداری کی آخری حد نماز روزہ کی پابندی ہوتی ہے اور ان کے اردگرد جو کچھ ہورہا ہوتا ہے وہ اس سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔وہ اپنے قریبی لوگوں کے ایسے رویوں کی بھی اصلاح نہیں کرتے جن کے اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی طور پر برا ہونے میں کوئی دو آرا نہیں پائی جاتیں۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو پھر لوگ حیا اور اخلاق کے ہر جذبے سے عاری ہوکر اپنی بے لگام حیوانی خواہشات کا اسی طرح اعلان کرنے لگتے ہیں۔یہ اعلانات کسی فرد کی آزادی کا نام نہیں بلکہ معاشرے کے اجتماعی ضمیرپر ایک طمانچہ ہیں۔ جو قوم ایسے طمانچے کھانے پر تیار ہوجائے وہ ایک ایک کرکے ساری اخلاقی خصوصیات سے محروم ہوجاتی ہے۔
Posted by
Ashk
on 26 February 2014 - 04:14 AM
very nyc selection
![]()
عشق کے بعد ہنر کیا کرتے
کچھ بھی کر لیتے،مگر کیا کرتے
کیا سناتے تجھے اپنا احوال
اب تجھے تیری خبر کیا کرتے
ہم کہ خود بیت گئے اوروں پر
ہم بھلا تجھ کو بسر کیا کرتے
ہم جو نغمہ تھے نہ نالہ اے دوست
تجھ پہ کرتے تو اثر کیا کرتے
ہم نہ گر ڈوبنے والے ہوتے
تیری باتوں کے بھنور کیا کرتے
Posted by
Seems Aftab
on 17 May 2012 - 12:07 AM
بیوی : آپ مجھے طلاق بھی دے دیں تب بھی میں گھر کے دروازے پر بیٹھ جاؤں گی مگر آپ سے دور کبھی نہیں جاؤں گی سُنا آپ نے۔۔۔۔
شوہر : زنانی بن زنانی گیلانی نہ بن۔۔۔۔
Posted by
Faith
on 22 October 2013 - 06:07 AM
Posted by
Aasim
on 24 May 2012 - 12:48 AM

Posted by
ÅwèXømê Afrídì Smîlé
on 17 October 2012 - 10:07 AM
Posted by
Seems Aftab
on 16 October 2012 - 03:22 PM
Posted by
jaras
on 12 September 2012 - 11:33 PM
Posted by
Ashk
on 11 September 2012 - 01:17 AM
کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔
دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُسکا خاوند اُس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کیلئے شعر کہتا تھا۔
عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔
جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا
کہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟
یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟
یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟
یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟
تو عورت نے یوں جواب دیا کہ
خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی بھر سکتی ہے۔
مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔
اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نا خاوند اُنکے مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔
اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں۔
تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟
اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کےساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔
اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نا صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟
اُس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔
اُس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔
جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔
تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل، میں اُن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔
کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اُسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟
تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟
کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!
میں فوراً ہی اُن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔
جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے۔
Posted by
Daanie
on 22 May 2012 - 07:06 PM





Community Forum Software by IP.Board 3.4.1
Licensed to: UrduPoint Network
