Jump to content


Photo

رگودھا کا ایک گاؤں ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں کیسے آیا؟


  • Please log in to reply
No replies to this topic

#1 mahfuzurrehman

mahfuzurrehman

    Active Member

  • Junior Member
  • 593 posts

Posted 01 March 2018 - 07:50 PM

  رگودھا کا ایک گاؤں ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں کیسے آیا؟
p05zqlbf.jpg
 
مریضوں میں بیماری انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے

پاکستان کی پہلی موٹروے صوبہ پنجاب میں سرگودھا ڈویژن کے ایک وسیع علاقے سے گزرتی ہے۔ اسی شاہراہ پر کوٹ مومن انٹرچینج کے ایک طرف محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا سا گاؤں کوٹ عمرانہ واقع ہے۔

تین سے چار ہزار آبادی کے اس گاؤں میں حال ہی میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خطرناک حد تک زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔

مقامی افراد اور گاؤں کے چند معززین کی جانب سے حکومتِ پنجاب کی توجہ اس جانب مبذول کروائے جانے پر رواں ماہ اس گاؤں میں ایک تشخیصی کیمپ لگایا گیا۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس کیمپ کے دوران پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام نے گاؤں کی تقریباً تمام آبادی کی سکریننگ کرتے ہوئے 2717 نمونے حاصل کیے جنھیں تشخیص کے لیے لاہور بھجوایا گیا۔

سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ تک پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 2717 میں سے 35 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں پڑھیں!

پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ ایک لاکھ مریض: اقوام متحدہ

'ہم مسلمان ہیں، ہمیں ایڈز کیسے ہو سکتا ہے؟'

ایچ آئی وی کے مریض اب نارمل زندگی جی سکتے ہیں

بلوچستان میں ایڈز سے متاثرہ 637 مریض رجسٹرڈ

تاہم سرگودھا کے مقامی محکمہ صحت کے حکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ نمونوں کی بنیاد پر سکرین کیے گئے افراد میں متاثرین کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

محکمۂ صحت کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے اس حوالے سے کوٹ مومن میں ایک سپیشل یونٹ قائم کیا ہے جہاں ان مریضوں کو رجسٹر کرنے کے بعد انھیں ایڈز کا علاج فراہم کیا جائے گا۔

’ان مریضوں میں بیماری انتہائی ابتدائی مراحل میں ہے۔ رجسٹر کرنے کے بعد ان کا باقاعدہ علاج شروع کر دیا جائے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام خود دیکھ رہا ہے۔

_100226621_2.jpg

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران ایک ہی گاؤں اور اس کے نواحی علاقوں سے سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے یہ کیسز زیادہ تصور کیے جائیں گے۔

کتنے متاثرین، کیسے سامنے آئے؟

گاؤں کے لوگوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاع حال ہی میں وہاں کے نمبردار چودھری اکرم نے ایک خط کے ذریعے وزیرِ اعلٰی پنجاب کو دی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ چودھری اکرم کو کیسے معلوم ہوا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چودھری اکرم نے بتایا کہ گذشتہ برس ان کے پاس گاؤں کے لوگ طویل اور نہ ختم ہونے والی بیماریوں کی شکایات لے کر آنا شروع ہوئے۔ ان میں زیادہ تر کو ڈاکٹر ٹی بی یا ہیپاٹائٹس تشخیص کرتے تھے تاہم ان کی بیماری ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔

چودھری اکرم نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس کئی افراد کی موت اس بیماری سے ہوئی۔ ’تقریباً دو سو کے قریب افراد ہمارے گاؤں میں اس بیماری سے موت کا شکار ہوئے ہیں۔‘ تاہم ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔‘

چودھری اکرم نے اس کے بعد سے متاثرہ افراد کو سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں قائم سپیشل میڈیسن کلینک میں بھیجنا شروع کیا جہاں ہیپاٹائٹس اور ایڈز سمیت دیگر بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی سہولیات موجود ہیں۔

کلینک کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس آنے والے ان افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور جب ستمبر کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو اس ایک گاؤں سے 32 کے قریب ایچ آئی وی کے کیس سامنے آئے۔

’مجھے اس پر تشویش ہوئی تو ہم نے ضلعی حکومت سے مشاورت کے بعد لاہور میں محکمہ صحت کو خبردار کیا جس کے بعد اکتوبر میں پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی مدد سے وہاں ایک تشخیصی کیمپ لگایا گیا۔‘

ان کے مطابق اس کیمپ میں ایک دن میں 300 سے زیادہ افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے 16 کیسز سامنے آئے۔ ڈاکٹر سکندر کے مطابق آئندہ چند ماہ میں دس مزید کیس سامنے آنے کے بعد سال کے آخر تک ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 58 کے قریب پہنچ گئی۔

_100226623_3.jpg خطرے کی گھنٹی کیوں نہ بجی؟

اس کے فورا بعد اس گاؤں کی سکریننگ کیوں نہیں کی گئی؟ ایسا کیوں ہوا کہ رواں برس فروری کے آغاز میں گاؤں کے نمبردار چودھری اکرم کو وزیرِ اعلٰی پنجاب کو ایک خط لکھ کر توجہ اس جانب مبذول کروانا پڑی؟

ڈاکٹر سکندر حیات کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلٰی پنجاب کی ہدایت پر مقامی ضلعی حکومت اور محکمہ صحت نے اس گاؤں میں ایک تشخیصی کیمپ لگایا جس میں رینڈم سیمپلنگ کی گئی۔ تاہم بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ تمام گاؤں کی سکریننگ کرنا ضروری ہے تو دو روز بعد پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام وہاں پہنچے اور مکمل نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کے لیے لاہور بھجوائے گئے۔

ان کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے کوٹ مومن میں قائم کیے گئے سپیشل سنٹر میں متاثرہ افراد کو رجسٹر کرنے کے بعد ان کا علاج شروع کیا جا رہا ہے۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجی اور اس کے بعد حکومت نے اس کی وجوہات جاننے کے لیے سروے کیا۔

_100226630_4jpg.jpg ایچ آئی وی اس گاؤں میں پھیلا کیسے؟

گاؤں میں ایڈز سے متاثرہ افراد میں شامل ایک میاں بیوی ڈسٹرکٹ ہسپتال کے یونٹ سے علاج کروا رہے تھے۔ حال ہی میں ان کی چار سالہ بیٹی میں بھی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے۔ 50 سالہ متاثرہ شخص نے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ ایڈز کیا ہے اور کیسے لگتی ہے۔؟

’تین ماہ قبل میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند تھا، اب میری حالت دیکھیں۔‘ ان کا جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ان کی 30 سالہ اہلیہ کی حالت بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔ ابتدا میں وہ چند ڈاکٹروں کے پاس جاتے رہے جہاں کسی نے انھیں ٹی بی اور کسی نے ہیپاٹائٹس تشخیص کیا۔

’اب ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ہمیں ایک عطائی ایک ہی انجیکشن سے ٹیکے لگاتا رہا ہے جس سے ہمیں ایڈز ہو گئی ہے۔‘

ان کے گاؤں یا قریبی دیہات میں کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں۔ قریب ترین ایک بنیادی صحت کا مرکز بچہ کلاں میں واقع ہے جو اس گاؤں سے محض چند کلو میٹر پر واقع ہے۔ ایسے میں چھوٹی موٹی تکالیف کی صورت میں وہ کہاں جاتے تھے؟

سپیشل میڈیسن کلینک کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات نے بتایا کہ اس قدر زیادہ کیسز ایک ہی علاقے سے سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے اس کی وجہ جاننے کی لیے وہاں ایک سروے کیا۔

وہ اس گاؤں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ اللہ دتہ نامی ایک عطائی ڈاکٹر کو قرار دیتے ہیں۔

’پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نائی تھا اور شاید مڈل پاس تھا۔ گذشتہ چند برسوں سے وہ اس گاؤں میں مقیم تھا اور ایک ہی سرنج سے لوگوں کو انجیکشن لگاتا رہا۔ تقریباٌ ڈیڑھ برس قبل اس کی موت ایڈز ہی سے ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عطائی خود بھی سیکس کے حوالے سے کافی متحرک تھا۔

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ عطائی یا نیم حکیم اس وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

’یہ عطائی صوبہ پنجاب کے بیشتر دیہات میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف ایک مکمل اور مضبوط مہم چلانے کی ضرورت ہے جس کا اب ہیلتھ کیئر کمیشن نے آغاز کر دیا ہے۔‘ انھوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ اس علاقے سے عطائیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے۔‘

_100226625_4.jpg  

 






0 user(s) are reading this topic

0 members, 0 guests, 0 anonymous users